شائع: 27 اکتوبر 2026 · تازہ ترین: 27 اکتوبر 2026 · نظرِ ثانی: Legal Team DIGIT

خلع کا طریقہ کار: پاکستان میں فیملی کورٹ کے ذریعے خلع کیسے لیں

Read this article in English

مختصر جواب

پاکستان میں بیوی فیملی کورٹ میں خلع کا دعویٰ دائر کر سکتی ہے۔ ویسٹ پاکستان فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کی دفعہ 10 کے تحت شوہر کی رضامندی ضروری نہیں؛ اگر بیوی عدالت کو مطمئن کر دے کہ میاں بیوی اللہ کی مقرر کردہ حدود کے اندر ساتھ نہیں رہ سکتے تو خلع دی جا سکتی ہے۔ عدالت پہلے صلح کی کوشش کرتی ہے، ناکامی پر کارروائی آگے بڑھتی ہے، اور عموماً بیوی کو اپنے غیر ادا شدہ حق مہر کا کچھ یا پورا حصہ چھوڑنا پڑتا ہے۔

خلع کیا ہے اور شوہر کی رضامندی کیوں ضروری نہیں؟

خلع وہ طریقہ ہے جس میں بیوی عدالت کے ذریعے نکاح ختم کرواتی ہے۔ فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کی دفعہ 10 کے مطابق اگر بیوی ثابت کر دے کہ وہ حدود اللہ کے اندر شوہر کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتی تو عدالت شوہر کی منظوری کے بغیر بھی خلع کی ڈگری جاری کر سکتی ہے۔

سپریم کورٹ کے مشہور خورشید بی بی کیس نے یہی اصول واضح کیا: سوال یہ نہیں کہ شوہر راضی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ عدالت مطمئن ہے یا نہیں۔ اسی لیے عملاً خلع عدالت کی نگرانی میں بیوی کا حق ہے، شوہر سے مذاکرات کا معاملہ نہیں۔

عدالتی کارروائی کے مراحل

دعویٰ دائر ہونے کے بعد عدالت شوہر کو نوٹس بھیجتی ہے اور صلح کی کارروائی ہوتی ہے۔ اگر شوہر پیش نہ ہو یا صلح نہ ہو سکے تو عدالت کارروائی جاری رکھتی ہے، حتیٰ کہ شوہر کی غیر موجودگی میں یک طرفہ بھی۔

کارروائی کی رفتار عدالت اور اس بات پر منحصر ہے کہ شوہر کیس لڑتا ہے یا نہیں؛ فیملی کورٹس عموماً عام دیوانی مقدمات کے مقابلے میں جلد فیصلے کے لیے بنائی گئی ہیں۔

حق مہر کا مالی پہلو

خلع لینے والی بیوی کو عموماً اپنا غیر ادا شدہ (مؤخر) حق مہر چھوڑنا پڑتا ہے، اور بعض صورتوں میں وصول شدہ مہر کا کچھ حصہ واپس کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کی درست مقدار عدالت حقائق دیکھ کر طے کرتی ہے، اس لیے دعویٰ دائر کرنے سے پہلے وکیل سے اندازہ لے لینا بہتر ہے۔

خلع اور طلاق میں فرق

طلاق شوہر کی طرف سے دی جاتی ہے، جبکہ خلع بیوی فیملی کورٹ کے ذریعے حاصل کرتی ہے اور اس میں عموماً مالی قربانی (مہر) شامل ہوتی ہے۔ طلاق کے طریقہ کار کے لیے ہمارا مضمون دیکھیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا شوہر کی مرضی کے بغیر خلع مل سکتی ہے؟

جی ہاں۔ فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کی دفعہ 10 کے تحت عدالت مطمئن ہو جائے تو شوہر کی رضامندی کے بغیر بھی خلع کی ڈگری دے سکتی ہے۔

کیا خلع میں حق مہر ختم ہو جاتا ہے؟

عموماً غیر ادا شدہ مہر چھوڑنا پڑتا ہے اور بعض صورتوں میں ادا شدہ مہر کا کچھ حصہ واپس کرنا پڑ سکتا ہے۔ حتمی فیصلہ عدالت حقائق کی بنیاد پر کرتی ہے۔

خلع کا مقدمہ کتنا وقت لیتا ہے؟

یہ عدالت اور اس بات پر منحصر ہے کہ شوہر مقدمہ لڑتا ہے یا نہیں۔ اگر صلح ناکام ہو اور شوہر پیش نہ ہو تو کارروائی یک طرفہ بھی ہو سکتی ہے۔

کیا Wakeel خلع کا دعویٰ دائر کر سکتا ہے؟

نہیں۔ Wakeel عمومی طریقہ کار سمجھانے میں مدد دیتا ہے، لیکن دعویٰ دائر کرنے اور عدالت میں پیش ہونے کے لیے لائسنس یافتہ فیملی لاء وکیل ضروری ہے۔

یہ عمومی قانونی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ اپنے کیس کے لیے کسی لائسنس یافتہ وکیل سے رجوع کریں۔ مکمل ڈسکلیمر

Wakeel اردو اور انگریزی میں پاکستانی قانون سمجھنے میں مدد کرتا ہے۔

Wakeel آزما کر دیکھیں